ہم کو ہمارے سوا کوئی زیر نہیں کرسکتا*

 *ہم کو ہمارے سوا کوئی زیر نہیں کرسکتا*
*✍: مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ* (۱۹۵۸ء)
━════﷽════━
*✺ «ہاں‘ جبکہ کرۂ ارضی کی سب سے بڑی مغرور طاقت بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی‘ تو ایک طاقت ہے جو ہمیں پل بھر کے اندر پاش پاش کرسکتی ہے.*
*وہ کون ہے؟*
Maulana Abul Kalam Azad
 
*☚‏ وہ خود ہم ہیں، اور ہماری خوفناک غفلت ہے اگروہ وقت پر نمودار ہوگئی. ہم پر ہمارے سوا کوئی غالب نہیں آسکتا؛ ہم ایمان اور استقامت سے مسلح ہوکر اتنے طاقتور ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا ارضی گھمنڈ بھی ہمیں شکست نہیں دے سکتا، لیکن اگر ہمارے اندر اعتقاد اور عمل کی ایک ادنیٰ سی کمزوری اور خامی بھی پیدا ہوگئی‘ تو ہم خود آپ ہی اپنے قاتل ہونگے، اور ہم سے بڑھ کر دنیا میں ا
مٹ جانے والی کوئی چیز بھی نہیں ملے گی.*


Maulana Abul kalaam Azad  
*◄ ہم کو گورنمنٹ شکست نہیں دے سکتی، پر ہماری غفلت ہمیں پیس ڈالے گی.
*◄ ہم کو فوجیں پامال نہیں کرسکتیں‘ لیکن ہمارے دل کی کمزوری ہمیں روند ڈالے گی.* 
*☚‏ ہمارے دشمن؛ اجسام نہیں ہیں، عقائد اور اعمال ہیں.* 
*◄ اگر ہمارے اندر ڈر پیدا ہوگیا،* 
*◄ شک وشبہ نے جگہ پالی،* 
*◄ ایمان کی مضبوطی اور حق کا یقین ڈگمگا گیا،* 
*◄ ہم قربانی سے جی چرانے لگے،* 
*◄ ہم نے اپنی روح؛ فریب نفس کے حوالہ کردی،* 
*◄ ہمارے صبر اور برداشت میں فتور آگیا،* 
*◄ ہم انتظار سے تھک گئے،* 
*◄ طلبگاری سے اُکتا گئے،* 
*◄ ہم میں نظم نہ رہا،* 
*◄ ہم اپنی تحریک کے تمام دلوں اور قدموں کو ایک راہ پر نہ چلا سکے،*
*◄ ہم سخت سے سخت مشکلوں اور مصیبتوں میں بھی امن اور انتظام قائم نہ رکھ سکے،* 
*◄ ہمارے باہمی ایکے اور یگانگت کے رشتہ میں کوئی ایک گرہ بھی پڑ گئی،* 
*◄ غرضکہ اگر دل کے یقین اور قدم کے عمل میں ہم پکے اور پورے نہ نکلے.*
*☚‏ تو پھر ہماری شکست، ہماری نامرادی، ہماری پامالی، ہمارے پس جانے، ہمارے نابود ہوجانے کے لئے نہ تو گورنمنٹ کی طاقت کی ضرورت ہے، نہ اس کے جبر وتشدد کی، ہم خود ہی اپنا گلا کاٹ لیں گے، اور پھر صرف ہماری نامرادی کی کہانی دنیا کی عبرت کے لئے باقی رہ جائے گی!*
*✵ ہماری طاقت بیرونی سامانوں کی نہیں ہے کہ انہیں کھو کر دوبارہ پالیں گے.* 
*☚‏ ہماری ہستی صرف دل اور روح کی سچائیوں اور پاکیوں پر قائم ہے اور وہ ہمیں دنیا کے بازاروں میں نہیں مل سکتیں.* 
*✪ اگر خزانہ ختم ہوجائے تو بٹور لیا جاسکتا ہے.* 
*◄ اگر فوجیں کٹ جائیں تو دوبارہ بنائی جاسکتی ہیں.*
*◄ اگر ہتھیار چھن جائیں تو کارخانوں میں ڈھال لئے جاسکتے ہیں.* 
*☚‏ لیکن اگر ہمارے دل کا ایمان جاتا رہا تو وہ کہاں ملے گا؟* 
*◄ اگر قربانی وحق پرستی کا پاک جذبہ مٹ گیا تو وہ کس سے مانگا جائے گا؟* 
*◄ اگر ہم نے خدا کا عشق [ اللہ کی محبت] اور ملک وملت کی شیفتگی کھو دی تو وہ کس کارخانے میں ڈھالی جائے گی؟»* 
📚: [قولِ فیصل: ۹۳، ۹٤، طبع قدیم؛ البلاغ پریس کلکتہ]
•┈┈•┈┈•⊰⊙⊱•┈┈•┈┈•

1 comment:

نکلو گے

 نکلو گے اگر جو تم نے ٹھانا ہے کہ میرے دل سے نکلو گے تو پھر سمجھو مرے جاناں ذرا سوچو مرے جاناں  نکل تو جاؤگے شاید مگر مشکل سے نکلو گے چلے تھ...