نکلو گے
اگر جو تم نے ٹھانا ہے کہ میرے دل سے نکلو گے
تو پھر سمجھو مرے جاناں
ذرا سوچو مرے جاناں
نکل تو جاؤگے شاید مگر مشکل سے نکلو گے
چلے تھے ساتھ جو رستے
وہ رستے تم کو روکیں گے
قرض خواہوں کے جیسے وہ
تمہاری جان کھائیں گے
اگر نکلو گے تم ان سے تو پھر مشکل سے نکلو گے
مرے دل کی ہر اک آہٹ
ترے دروازہ دل کو
ہزاروں دستکیں دے کر
تمہیں واپس بلائیں گی
جو نکلو گے اگر دل سے بڑی مشکل سے نکلو گے
سکوں اک پل نہ پاؤگے
کبھی تم دل کے مرکز میں
تمہاری دھڑکنیں بڑھتی رہیں گی
ہر گھڑی ہر پَل
نکلنا چاہتے ہو تم
مگر سچ ہے یہی جاناں
نکل تو جاؤ گے رومان پر مشکل سے نکلو گے
قلمکار : شمائلہ رومان
No comments:
Post a Comment