ایک نجدی تاجر اور مصنف کتاب التوحید

 نجد کے ایک تاجر عبدالرحمان البکری تجارت کی غرض سے ہندوستا ن کا سفر کرتے ہیں، تقریبا نصف سال تک ہندوستان میں ان کا قیام رہتا ہے ۔شیخ عبدالرحمان البکری کہتے ہیں کہ جس جگہ میں ٹھہرا تھا وہاں بغل میں ایک مسجد تھی۔اور اس مسجد میں ایک شیخ درس دیتے تھے ،جب وہ اپنے درس سے فارغ ہوتے تو شیخ اور تلامذہ  ایک ساتھ مل کر"شیخ الاسلام  محمد بن عبد الوہاب "پر لعنت بھیجتے تھے ۔

عبد الرحمان البکری کہتے ہیں شیخ جب مسجد سے نکلتے تو ان کا گزر میرے پاس سے ہوتا اور وہ  مجھ سے گویا ہوتے کہ  مجھے عربی اچھے سے آتی ہے لیکن میں عربی اہل زبان سے سننا چاہتاہوں،پھر وہ  میرے پاس بیٹھ کر ٹھنڈ ا پانی پیتے ۔
عبد الرحمان البکری کہتے ہیں کہ "شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب" کے ساتھ ان کے اس سلوک کے سبب میں مغموم وبے چین تھا ۔چنانچہ میں نےایک حیلہ کے ذریعہ  انہیں بلایا اور" کتاب التوحید" کا غلاف پھاڑ کر ان کے آنے سے پہلے اپنے گھر کی الماری  میں رکھ دیا ۔چنانچہ جب وہ حاضر ہوئے تو میں نے ان سے کہا مجھے ذرا اجاز ت دیں میں آپ کے لئے  تربوزہ لیکر آتا ہوں۔جب میں تربوزہ لیکر واپس آیا تو  کیا دیکھتاہوں کہ  وہ" کتاب التوحید" کا مطالعہ کر رہے ہیں اور سر  دھن رہے ہیں ۔اس کےبعد وہ سوالیہ اندازمیں مخاطب ہوکرپوچھتے ہیں کہ یہ کس کی کتاب ہے ؟ اس کتاب کے تراجم تو صحیح بخاری میں موجود کتاب التوحید کے تراجم کے مشابہ ہیں ۔عبدالرحمان البکری جوابا کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم ہے۔ پھر عرض کرتے ہیں کہ کیوں نہ ہم شیخ غزوی کے پاس چلیں جن کے پاس لائبریری ہے اور انہوں نے جامع البیان پر رد بھی لکھا ہے۔چنانچہ ہم غزوی کے پاس گئے اور ہمارے پاس جو اوراق تھے اسے ہم نے انہیں دکھایا اور ان سے کہا کہ یہ شیخ  اس کتاب کے مؤلف کو جاننا چاہتے ہیں ؟عبد الرحمان البکری کہتے ہیں کہ غزوی میری  مراد خوب  سمجھ رہے  تھے چنانچہ غزوی " کتاب التوحید "منگواتے ہیں اور دونوں کو ملانے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ تو "شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ" کی کتاب " کتاب التوحید " ہے ۔یہ سنتے ہی وہ شیخ چراغ پا ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "کافر"۔ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ اتنی عمدہ کتاب اس کافر شخص نے لکھی ہے۔
عبدالرحمان البکری بیان کرتے ہیں کہ ہم

ان کے  اس رویہ پر خاموش رہے اور وہ بھی تھوڑی دیر بعد غصہ ٹھنڈا ہوجانے کے بعد خاموش ہوجاتے  ہیں۔ پھرکہتے ہیں " اگر واقعتا یہ کتاب انہیں کی لکھی ہوئ ہے تو میں نے ان پر ظلم کیا ہے ۔پھر اس دن کے بعد سے وہ شیخ اور ان کے تلامذہ ایک ساتھ روز آنہ درس سے فراغت کے بعد شیخ الاسلام کے لئے دعا  ء کا اہتمام کرتے تھے۔

.( فتاوى ورسائل سماحة الشيخ محمد بن إبراهيم بن عبد اللطيف آل الشيخ/ج 1/ص 75-76)

No comments:

Post a Comment

نکلو گے

 نکلو گے اگر جو تم نے ٹھانا ہے کہ میرے دل سے نکلو گے تو پھر سمجھو مرے جاناں ذرا سوچو مرے جاناں  نکل تو جاؤگے شاید مگر مشکل سے نکلو گے چلے تھ...